+92 348 256 8546

customercare@atlantispublications.com.pk

0

Description

فکر تونسوی کی دو آپ بیتیاں ایک جلد میں ۔۔
1. میں
2 ۔ میری بیوی
۔
زندہ کتابیں سلسلہ نمبر 354 – 355
سترہ سو نوے رپے
۔
ادیب جب اپنی عمر کی اخری منزل پر پہنچتا ہے تو اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ آپ بیتی لکھے ۔۔ کیونکہ اول تو اس کے پاس کوئی قابل غور کام نہیں ہوتا بلکہ وہ جو کام بھی کرتا ہے اسے قابل غور نہیں سمجھا جاتا ۔۔ جیسے صبح سویرے دودھ کی دکان سے دودھ کی بوتل لے آیا ۔۔ حالانکہ پانچ پیسے بوتل زیادہ ادا کرے تو علاقے کا ایک بے روزگار سپلائیر روزانہ آپ کے گھر تک بوتل پہنچا دیتا ہے۔
۔
ادیب اگر بوڑھا ہو جائے تو ہر روز پانچ پیسے بچا لیتا ہے اور اسے قابل غور کام سمجھتا ہے ۔ دودھ کی بوتل لانے کے بعد وہ آپ بیتی لکھنے بیٹھ جاتا ہے ۔۔ آپ بیتی اور بوتل دونوں کو وہ قابل غور سمجھتا ہے ۔ جب بوتل اور آپ بیتی میں کوئی امتیاز باقی نہ رہے تو ہر بات نیچرل لگتی ہے دروغ بیانی تک ۔۔
۔
اس کے علاوہ عمر کی اخری منزل میں اہل قلم کا جی اس لیے بھی آپ بیتی لکھنے کو چاہتا ہے کیونکہ اس میں جھوٹ اور سچ کی کافی پرکھ پیدا ہو جاتی ہے ۔۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ جھوٹ کب بولا جائے کہ وہ سچ معلوم ہو اور سچ کب بولا جائے ، بولا بھی جائے یا نہیں ۔ کیونکہ اس سے تو کوئی خاص فرق تو پڑتا نہیں ہے ۔۔
۔
اس آپ بیتی میں میری بیوی نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ شمولیت اس نے خود کی ہے یا میں نے کی یہ بتانا مناسب نہیں کیونکہ یہ ہمارا گھریلو مسئلہ ہے ۔۔ میرا خیال تھا بیوی کے شمولیت سے ایک نئی تکنیک وجود میں ائے گی جو دنیا کی ہر آپ بیتی سے مختلف ہوگی ۔ سوچا تھا بیوی صرف تکنیک ہی تکنیک ہے ، لیکن بعد میں بڑا افسوس ہوا کہ بیوی تو میری آپ بیتی پر محیط ہو گئی ہے، تکنیک میں بھی مواد میں بھی ۔ میرا تو اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے نام کے فکر تونسوی کے ۔۔
۔
مسیحیت میں اعترافات کی بڑی اہمیت مانی گئی ہے جس میں اللہ تعالی کے حضور اپنے زندگی بھر کے گناہوں کا اعتراف کیا جاتا ہے اور سنا ہے اللہ تعالی اتنا سادہ دل ہوتا ہے کہ وہ کسی کی اعتراف گناہ پر انہیں معاف بھی کر دیتا ہے ۔۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ آپ بیتی لکھنے پر بھی خدا مجھے معاف نہیں کرے گا کیونکہ اس میں فقط میرے گناہوں کا اعتراف نہیں ہے ثوابوں کا اعتراف بھی شامل ہے ۔
۔
اس لیے میں تو اس آپ بیتی کو ایک پچھتاوا سمجھتا ہوں، یعنی یوں کہ گناہ تو مجھے کرنا ہی تھے مگر ثواب مجھ سے کیوں سرزد ہوئے، جبکہ سرزد نہ ہوتے تو اس سے دنیا کے ارتقا میں کوئی خاص فرق نہ پڑتا ۔۔
۔
میں نے بیوی سے پوچھا :
“کیا اتنی لمبی زندگی گزار کر تمہیں کچھ پچھتاوا نہیں ہوا.”
وہ بولی “میرے پاس یہ سوچنے کا ٹائم نہیں ہے میں تیسرے پوتے کے جنم دن کے انتظامات میں مصروف ہوں۔”
میں نے کہا “مجھے تو زندگی ایک پچھتاوا لگتی ہے تمہارے سمیت . “
“پچھتا لوں گی ایسی بھی کیا جلدی ہے، میں پہلی بہو سے سخت نالاں ہوں۔ “
“کیا میرا جنازہ اٹھنے پر بھی نہیں پچھتاؤ گی۔”
” کیوں نہیں! پچھتا ہوں گی ، یہ تو دنیا کا ریتی رواج ہے اور ریتی رواج تو چلتے ہی رہتے ہیں۔”
۔
لہذا اس آپ بیتی کو بھی ریتی رواج ہی سمجھا جائے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس آپ بیتی کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے کی کتاب کا نام ہے “میں’ اور دوسرے حصے کا “میری بیوی”

Additional information

Weight 1000 g

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Main Meri Biwi Fikr Taunsvi”

Your email address will not be published. Required fields are marked *